جمعہ، 28 اگست، 2015

سکون کی تلاش

                                            
اس دنیامیں ہرکوئی اورہروقت سکون کی تلاش میں بھٹک رہاہے۔چاہے کوئی مردہویاعورت،چھوٹاہویابڑا،جوان ہویابزرگ،امیرہویاغریب ہرکوئی یہی چاہتاہے کہ اس کوذہنی اورقلبی سکون میسرہو۔بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہے جن کویہ سکون میسرہوتاہے،ان میں امیربھی ہوتے ہیں اورغریب بھی۔آپ کاذہنی سکون واطمینان آپ کی امیری یاغریبی کی وجہ سے نہی ہوتابلکہ بہت سے ایسے لوگ دیکھنے کوملتے ہیں جن کے پاس ہرطرح کی دنیاوی آسائیش و آرام موجودہوتاہے لیکن ان کو یہ سکون حاصل نہیں ہوتااوروہ ساری زندگی اسی سکون کی تلاش میں بھٹکتاپھرتااوراسی طرح ان کی زندگی گزرجاتی ہے۔ ہمیں یہ سکون واطمینان قلبی کیسے حاصل ہو؟ یہ ذہنی سکون ہمیں تب حاصل ہوگاجب ہم اپنے پروردگارعالم،اپنے مالک اللہ تعالیٰ کے حضورسجدہ زر ہوں گے۔جب بھی ہم اپنے رب کے سامنے پیش ہوں توپورے اخلاص اورنیت کے ساتھ اسکی عبادت کریں۔ہم اپنے پروردگارکی نعمتوں کاشکریہ اداکریں۔آپ یقیناایک عجیب سی خوشی محسوس کریں گے جوآپ کواس سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی ہوگی اورآپ یہ بھی محسوس کریں گے کہ جس سکون کی آپ کوتلاش تھی وہ بھی آپ کو ملے گا،اوراس سے بھی زیادہ اگرآپ سکون چاہتے ہیں توآپ جب بھی نمازکوجائیں تواپنے ساتھ اپنے ساتھیوں کوبھی دعوت دیں اس سے بھی آپ کودلی سکون حاصل ہوگا۔جسطرح آپ نے دیکھاہوگاکہ ہماری یونیورسٹی میں RSEکے نام سے ایک تنظیم کام کررہی ہے جس کے مقاصدمیں ایک مقصدیہ بھی ہے کہ طلباء کودنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں۔اسی سلسلہ میں RSEکے ممبران طلباء کونمازکی دعوت کے ساتھ ساتھ ان کودین کیطرف راغب کرنے کیلئے قرآن کلاس اورسٹڈی سرکلزکاانعقادکیاجاتاہے۔اسطرح کے کام کرنے سے یقیناان تمام لوگوں کوجواس تنظیم میں کام کرتے ہیں ان کودلی سکون حاصل ہوتاہوگااوراسکے ساتھ ساتھ آخرت کی ہمیشہ آنے والی زندگی میں بھی انشااللہ کامیابی ان کے قدم چومے گی۔ اس کے علاوہ اوربھی بہت سے ایسے کام ہیں جن کوکرنے سے بھی دلی سکون حاصل ہوتاہے جیسے کہ آپ اگردکھی انسانیت کی خدمت کریں،آپ رفاحی کام کریں اس سے بھی آپکودلی سکون حاصل ہو گا۔ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کودیکھیں توہمیں محسوس ہوگاکہ اس دنیامیں دوہرامعیا رزندگی ہے،غریب کے بچے کیلئے الگ قانون ہے اورامیرکے بچے کیلئے الگ،حالانکہ دونوں بچے ہیں فرق صرف اتناہے کہ ایک امیرکے گھرپیداہوااوردوسراغریب کے گھرمیں جنم لیتاہے۔دونوں بچوں کی خواہشات ایک جیسی ہوتی لیکن ایک بچہ جوامیرکے گھرپیداہوتاہے وہ اپنی خواہشات پوری کرلیتاہے اوردوسرا بچہ ایسا نہیں کرسکتا۔یہاں پرسوال یہ بنتاہے کہ کیااس بچے کادل نہیں کرتاکہ اس کی خواہشات پوری ہوں،یہ بھی اپنے ہم عمربچوں کی طرح زندگی بسرکے؟یقینااسکادل بھی کرے گاکہ یہ بھی وہ سارے کام کرے جواسکے ہم عمربچے کرتے ہیں لیکن یہ اپنے گھریلوں حالات کیوجہ سے یہ سارے کام نہیں کرسکتا۔ہمیں چاہئے کہ اس قسم کے لوگوں کی مددکریں،ابھی حال ہی میں تھرمیں بہت سے لوگ قحط کیوجہ سے جابحق ہوگئے،اسکے بعدوزیرستان میں آپریشن کیوجہ سے بہت سے لوگ بے گھرہوگئے،اسکے بعدابھی ہماراملک سیلاب کیوجہ سے پانی میں ڈوباہواہے۔ہمیں ان تمام لوگوں کی مدد کرنی چاہئے جو اس وقت مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس طرح کے رفاحی کام کرنے میں بھیRSEپیش پیش ہے۔مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ تھرمیں قحط اوروزیرستان میں IDPsکی مدداورحوصلہ افزائی کیلئےRSEنے تقریباٌبائیس(۲۲)لاکھ روپے عطیہ کئے اور ابھی سیلاب متاثرین کیلئے بھی فنڈزجمع کئے جارہے ہیں۔میری دعاہے کہ کاشرالطاف بھائی صدرRSEاوران کے سارے ساتھی اسی طرح طلباء اوردکھی انسانیت کے لئے کام کرتے رہیں۔آمین!

از:۔ محمدعقیل الزمان،ممبرRSEسپریم کو نسل-

نوٹ:- یہ بلاگ ایک سال پہلے لکھا گیا تھا-
                              https://www.facebook.com/riphahsocietyforexcellence    

بدھ، 26 اگست، 2015

"لا الہ الا اللہ"

کلمہ کا پہلا حصہ ہے-یہ ہم پڑھتے بھی ہیں اور اس کا اقرار بھی کرتے ہیں-زبان سے تو ہم اس کا اقرار کرتے ہیں کہ "اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں" لیکن کیا ہم اس کا اپنے قول و فعل اور دل سے بھی اقرار کرتے ہیں؟ ہم یہ دعوہ تو کر سکتے ہیں کہ ہم دل سے اقرار کرتے ہیں لیکن یہ دعوہ سچ ہے یا جھوٹ اس کا پتا اس وقت لگتا ہے جب ہم اپنے روزمرہ کے کام میں اپنے قول و فعل سے اس پر پورا اترتے ہوں-
لفظ "الہ" اپنے اندر وسیع تر معنی رکھتا ہے-جب بھی ہم پر کوئی مصیبت آۓ یا کوئی خوشی کا موقع ہو تو ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہوں-کوئی مشکل درپیش ہو تو ہم اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کریں اور جب کوئی خوشی کا موقع ہو تو اللہ پاک کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لائیں-جب ہم ان باتوں پر عمل کریں گے تو ہم لفظ "الہ" کی پیروی کرتے ہیں-ہمارے قول و فعل اس بات کی گواہی دیں کہ ہم اللہ پاک کے سوا کسی کو الہ نہیں مانتے-
ہم مسلمان ہونے کا دعوہ تو کرتے ہیں لیکن کیا ہم صرف نام کے مسلمان ہیں یا ہمارے قول و فعل بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں-مسلمان ہونے کا دعوہ تو منافقین مکہ بھی کرتے تھے لیکن ان کے مسلمان ہونے اور صحابہ اکرام(رض) کے مسلمان ہونے میں صرف یہی فرق ہے کہ صحابہ اکرام (رض) اپنے قول و فعل سے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے تھے-
اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہم نے صحابہ اکرام (رض) کی زندگی کی طرح زندگی بسر کرنی ہے یا منافقین کی طرح-اللہ پاک مجھے بھی حقیقی مسلمان بننے کی توفیق دے اور آپ سب کو بھی-آمین!
                                                                                                 

                                                                                                               از:-
                                                                                                               عقیل الزمان




نوٹ:- انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو تو معاف کر دیجۓ گا- جزاک اللہ
         اگر کوئی بھائی رہنمائی کرنا چاہے تو لازمی کریںپ